Wednesday, November 30, 2022

اے جانِ جہاں آرزوئے روئے تو دارم

0 Comments

 فارسی غزل بمعہ اردو ترجمہ از شہید محبت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوشی رح


اے جانِ جہاں آرزوئے روئے تو دارم
در سر ہوسِ قامتِ دلجوئے تو دارم

اے جان جہاں آپ کے چہرے کی زیارت کا مشتاق ہوں
میری بزم خیال میں آپ کی سروقدی کا نشہ ہر وقت چھایا رہتا ہے

در کعبہ و در صومعہ در دیروخرابات
ہرجا کہ روم دیدہ دل سوئے تو دارم

کعبہ ، کلیسا ، گرجا اور شراب خانے میں ہر جگہ
جہاں بھی جاتا ہوں میرا دل آپ کی محبت میں سرشار رہتا ہے

حاجی بہ طوافِ حرم کعبہ رود لیک
من کعبہ مقصود سِر کوئے تو دارم

حاجی حرم کعبہ کے طواف کے لئے جاتا ہے لیکن
میرا قبلہ و کعبہ آپ کا سنگ آستاں ہے

اندرصف طاعت چُوں بہ مسجد بہ نشستم
دل مائل محراب دو ابروئے تو دارم

جب بھی میں عبادت کی نیت سے مسجد میں بیٹھتا ہوں
میرے دل کا رجوع آپ کے دونوں ابروؤں کی طرف ہوتا ہے

ہرجا کہ رود قطبِ دیں آید بہرِتو باز
چوں رشتہ دل بستہ بہر موئے تو دارم

جہاں کہیں بھی قطب دیں جاتا ہے آپ ہی کے لئے جاتا ہے
کیونکہ اُس کا دل تو آپ کی زلف سیاہ کا اسیر ہے

0 Comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔